urdu column of Pakistani writers. You can also email for publishing on sagarsadidi@gmail.com
Monday, December 12, 2011
انٹی کرپشن کا عالمی دن
انٹی کرپشن کا عالمی دن!!!
جب قارئین ا کرام کی آنکھوں کے سامنے حقیقت کی تحریر ہو گی اس وقت انٹی
کرپشن کے عالمی دن کو ایک دن مکمل ہو چکا ہو گا دنیا بھر کے اندر منائے
جانے والے عالمی دنوں کا کوئی نہ کوئی اصلاحی مقصد ہو تا ہے یوں ترقی
یافتہ ممالک عالمی دنوں کی مناسبت سے قوم کی اصلاح کی طرف نکلنے والے
راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ قوم اور تاریخ کا رشتہ غیر متزلزل رشتے
کی حیثیت سے قائم رہے شاہد پاکستان واحد ایشائی ملک ہو گا جہاں پر تاریخی
دن بھی عام دنوں کی طرح گزر جاتے ہیں جن کی بنیادی وجہ دیکھنے والوں کو
یہ نظر آرہی ہے کہ قوم کو تاریخی دنوں کی نسبت اس پیٹ کی بھوک ختم کرنے
کی فکر لگی ہوئی ہے جس کی شدت میں گذشتہ ساٹھ برسوں سے کمی کی بجائے
اضافہ ہی ہوا ہے یہ اضافہ مہنگائی بے روزگاری اور غربت کے علاوہ ریاستی
اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور سیاسی سطح کی بدیانتی کی صورت میں دیکھی
جا سکتی ہے پاکستان کے پاکستانی کو اپنے پیٹ کی فکر ہے اور حکومت کو اپنے
اتحادیوں میں اضافہ کرنے کی فکر ۔۔۔۔۔۔ پیٹ کی ڈیمانڈ غذا جبکہ سیاسی
اتحادیوں میں اضافے کے ناممکن منصوبے کو ممکن بنانے کیلئے اربوں روپے کی
ضرورت ہے اب حکومت اربوں روپے کے اخراجات ذاتی خزانے سے پور نہیں کر رہی
وہ بھی غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل ہونے والے ٹیکس سے نکال
رہی ہے دونوں اطراف سے متاثر با لآخر عوام ہی ہو رہی ہے اور اقتدارکے
ایوانوں میں بیٹھے والے نشے لوٹ رہے ہیں ایسے لگ رہا ہے کہ اقتداری ٹولے
کو قومی ضروریات سے کوئی تعلق واسطہ نہیں اگر ایسی بات ہوتی تو حکومت
گذرے ہوئے دن کوجیسے پوری دنیا انٹی کرپشن والے دن کے طور پر اپنے اپنے
سرکاری اداروں کا محاسبہ کرکے میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے اپنی
کارکردگی پیش کر رہی تھی اس وقت پاکستان کی حکومت میموگیٹ سکینڈل ، مہمند
ایجنسی حملہ ،صدر زرداری کی دبئی روانگی اور ایبٹ آباد کمیشن کی رپور ٹ
میں الجھی ہوئی تھی ۔ہے نہ فرق ترقی یافتہ ممالک اور ہمارے حکمرانوں کی
سوچ میں ۔۔۔۔۔دیکھئے جہاں تک انٹی کرپشن کے محکمے کی بات سے تو اس کی
موجودگی کا کسی شہری کو یقین ہی نہیں آتا کرپشن کا دائرہ کار اور ناجائز
دائرہ اختیار دن بدن آگے کی جانب بڑھ رہا ہے اس دائرے میں آئے روز وسعت
آرہی ہے با اثر کارکن سے لیکر وزیر اعظم تک اور پٹواری سے لیکر چیف
سیکرٹری تک کے عہدیداروں نے اپنا اپنا پیمانہ مقرر کیا ہوا ہے جس کے
نتیجے میں بے یقین اور مایوس سائل کسی کیخلاف درخواست دینے سے بہتر
متعلقہ آدمی سے فائل پردستخط کروانے کیلئے مطلوبہ رقم دینے میں بہتری
سمجھتا ہے حالانکہ یہ قطعاً بہتری نہیں بلکہ خرابی ہے جس کی جڑیں بہت
مضبوط ہو چکی ہیں ان جڑوں کو کاٹنے کی اشد ضرورت ہے یہ جڑیں کاٹنے کیلئے
نوجوان نسل کے اندر پوراجذبہ موجود ہے نوجوان نسل پاکستان کو ترقی یافتہ
ملک بنانے کیلئے بہت بے تاب ہے گوہ حکومت پاکستان کے پاس نوجوان نسل کے
مستقبل کو محفوظ کرنے کیلئے کوئی منشور یا منصوبہ نہیں لیکن اس کے باوجود
نوجوان نسل ملک کے اندر تبدیلی لانے کیلئے کام کر رہی ہے اس تبدیلی کا
ایک منظر یاد گا رپاکستان لاہوراور دوسرا منظرکھوٹکی میں تحریک انصاف کے
ہونے والے جلسے میں نوجوانوں کی شرکت کو دیکھنے کے بعد تبدیلی کا اندازہ
لگایاجا سکتا ہے ۔۔۔۔۔
Artical of Khalid Anjum
!!!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو ئی پر سان حال نہیں ۔ لوگو ہمراہ ہے ۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ یہ جہاں مسلمان کے رہن سہن ، لین دین کی
مکمل تفصیل بتاتا ہے وہیں اسلامی معاشرہ میں بسنے والے غیر مسلموں کے
حقوق کا بھی مکمل خیال رکھتا ہے ۔ میرپور میں بنے والی عیسائی کمیونٹی کی
واحد عبادت گاہ میرپور سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر چتر پڑی سے جنوب کی
جانب واقع ہے ۔ عبادت گاہ کے شمال میں او پی ایف ہائوسنگ اسکیم ہے ۔
میرپور شہر میں عیسائی کمیونٹی کافی تعداد میں آباد ہے ۔ عیسائی بھائی
ہماری بہت خدمت کرتے ہیں۔ میرپور میں صفائی ستھرائی انہی کی مرہون منت ہے
اور میرپور ڈویژنل ہاسپیٹل میں بھی ان کی بہت زیادہ تعداد ہے ۔ ہاسپٹل
میں بھی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں۔ اب کرسمس کی آمد آمد ہے تو
مجھے چند عیسائی بھائیوں نے کہا کہ ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دی
جائے اور اس کرسمس پر ہماری مشکلات کم کی جائیں ۔ عیسائی کمیونٹی کا سب
سے بڑا مسئلہ عبادت گاہ تک سڑک کا ہے ۔ حکومت ِ وقت نے میرپو رمیں میڈیکل
کالج کا اعلا ن پہلے ہی کیا ہوا ہے اس کالج تک چترپڑی سے باہر باہر سڑک
پہنچانی ہو گی ۔ اسی طرح میڈیکل سے صرف دو کلومیٹر جنوب کی جانب عیسائیوں
کی عبادت گاہ اور پی ایف ہائوسنگ اسکیم والوں نے بھی سڑک بنائی ہوئی ہے
اور پی ایف ہائوسنگ اسکیم کی سڑک سے صرف پانچ سو گز کے فاصلے پر عیائیوں
کی عبادت گاہ ہے ۔ حکومت ِ وقت کو صرف پانچ سو گز سڑک تعمیر کرنی ہے ۔
لیکن اس پانچ سو گز سڑک کی تعمیر سے عیسائی کمیونٹی کو بہت ہی اچھا میسج
جائے گا۔ اور ان کی بہت ساری خدمات کا کچھ صلہ بھی ہو گا ۔ اور دنیا کو
بھی اچھا میسج جائے گا کہ پاکستان /آزاد کشمیر ایک اسلامی ریاستیں ہیں ،
اسلامی معاشرہ ہے اور اس اسلامی معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا بھی خصوصی
خیال رکھا جاتا ہے ۔
مجھے جب ان بھائیوں نے کہا تو میں خود عبادت گاہ تک گیا ۔ اس وقت عبادت
گاہ تک جانا ، جان جوکھوں کا کام ہے ۔ پانچ سو گز کا فاصلہ پیدل طے کرنا
پڑتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کمیونٹی ہر سنڈے کو کس
طرح یہاں پہنچتی ہو گی ۔ اس لیے حکومت وقت سے گزارش ہے کہ عیسائیوں کی
عبادت گاہ تک فی الفور سڑک تعمیر کی جائے اور اس کمیونٹی کے دل جیتے
جائیں۔ عیسائی کمیونٹی کے دوسرے مسائل میں ان کی رہائش کے مسائل ہیں۔ ان
کو مناسب رہائشی سہولیات بھی نہیں مل پا رہیں۔ اور بعض کو اپنی رہائشوں
کا بندوبست خود کرنا پڑتا ہے ۔ مناسب رہائشی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے
ان کے کام میں خلل پڑ رہا ہے اور کچھ فیملیز واپس پنچاب چلی گئیں ہیںکہ
ان کو رہائش نہ مل سکی ۔ اسی طرح میرپور میں صفائی کیلئے جو افراد قوت
درکار ہے ۔ اس میں کمی واقع ہو ئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رہائشی ایریاز میں
صفائی ماہانہ بنیادوں پر ہوتی ہے اور کبھی کبھی تو پورے مہینے میں بھی
صفائی کی ٹیمیں صفائی کرنے نہیں آتیں ۔ اس سے گلی محلوں میں تعفن پیدا
ہورہا ہے ۔ حکومت ِ وقت سے گزارش ہے کہ عیسائی کمیونٹی کے مسائل ترجیحی
بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ عیسائی کمیونٹی بھی پوری دل جمعی کے ساتھ
میرپور شہر کو صاف ستھرا رکھ سکیں۔
افواج پاکستان
اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے اب انکل
سام کے سامنے پاکستانی غیرت ،جرات اور خودمختاری کی بات کی ہے یہی اگر
ہمارے ''بلی مارکہ کمانڈو ،طبلے والی سرکار ''جناب جنرل مشرف صاحب آج سے
ایک دہائی قبل کرلیتے تو پاکستان کو وہ نقشہ نہ ہوتاجو آج ہمیں دکھائی دے
رہاہے ۔
بقول اقبال ؒ
وہی ناں ہے لائق ِ ارجمند
رہے جس سے دنیا میں گردن بلند
فروفال ِ محمود سے درگزر
خودی پہ نگاہ رکھ ایازی نہ کر
یہی کچھ ہے ساقی متاع ِ فقیر
اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر
میرے قافلے میں لٹا دے اسے
لٹادے ٹھکانے لگادے اسے
جوانوں کو سوز ِ جگر بخش دے
میر اعشق میری نظر بخش دے
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے
دل ِمرتضیٰؓ ،سوز ِ صدیقؓ دے
قارئین محرم الحرام کا اصل سبق جو سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہی
ہے کہ حق کی خاطر بڑے سے بڑے باطل سے ٹکراتے ہوئے تامل نہ کیا جائے جنرل
مشرف نے ایک امریکی دھمکی پر پاکستان کی کئی عشروں پر مبنی افغان پالیسی
ختم کردی ،اپنے ذاتی مفادات اور عیش وعشرت کی خاطر پاکستان کی شہ رگ
کشمیر سے دست برداری کی پالیسیاں شروع کردیں ،ڈالر کمانے کے لیے عافیہ
صدیقی سمیت سینکڑوں دین دار پاکستانیوںکو القاعدہ اور طالبان کا ساتھی
قرار دے کر امریکہ کے حوالے کردیا ،اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون بہانے
کے لیے قبائلی علاقہ جات میں افواج پاکستان کو ایک غیر ضروری جنگ کے اندر
دھکیل دیا جس میں دونوں اطراف میں گرنے والے خون مسلمان اور پاکستانی تھا
الغرض بے غیرتی اور بزدلی کی ان پالیسیوں نے یہ دن دکھائے کہ پہلے امریکہ
نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ''ایبٹ آباد آپریشن ''کیا
،سینکڑوں ڈرون حملے کیے اور انتہائوں کو چھوتے ہوئے آخر میں ''سلالہ چیک
پوسٹ آپریشن ''کیا جس میں 26پاکستانی مجاہد فوجی شہید کردیئے ۔
دیر آئد ،درست آئد ۔۔۔
غیر ت آئی ،دیر سے آئی لیکن درست آئی اب میڈیا کی اطلاعات کے مطابق چند
دنوں سے پاکستان نے نیٹو فورسز کو سپلائی روکی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے
کہ دجال وقت انکل سام کی فوجوں کو پٹرول کا ایک گیلن 4سو ڈالر کا پڑرہاہے
ابتدائے عشق ہے روتاہے کیا
آگے آگے دیکھئیے ہوتاہے کیا
قارئین ہماری پیش بینی یہ کہتی ہے کہ صرف تین ماہ افواج پاکستان اور
ہماری سیاسی حکومت انکل سام کی باتوں میں آئے بغیر نیٹو کا یہ بائیکاٹ
جاری رکھیں اور پھر دیکھیں کہ انکل سام کی منتیں اور ترلے کس لیول پر
جاتے ہیں صرف چند ماہ کے روزے رکھنے سے غیرت اور عزت کی وہ معراج ہم
دوبارہ پاسکتے ہیں جو گزشتہ دس سالوں کے دوران ہم نے کھوئی ہے افغانستان
میں طالبان کی حکومت سب سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے یہاں ازراہ تفنن
ہم اپنے پیارے وزیر داخلہ جناب رحمان ملک کا محرم الحرام امن کے ساتھ گزر
جانے کے بعد کا دیاجانے والا میڈیا پر بیان نقل کریں گے جس میں انہوںنے
طالبان کا شکریہ اداکیا کہ ان کے تعاون سے محرم امن سے گزر گیا اور
انہوںنے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ہم آئندہ بھی طالبان کے ساتھ مل
کرکام کرسکتے ہیں ۔
جو چاہے آپ کا حسن ِکرشمہ ساز کرے
قارئین افغانستان انکل سام کا براہ راست نشانہ نہیں ہے افغانستان کے پردے
میں دراصل پاکستان اور پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات کے اوپر بین الاقوامی
استعمار اور صیہونی لابی اپنی ناپاک نظریں جمائے بیٹھے ہیں ریمنڈ ڈیوس کا
واقعہ صرف دو یا تین پاکستانیوںکو قتل کرنے پر مبنی نہیں ہے بلکہ اسلام
آباد سے لیکر پورے پاکستان میں اس وقت بلیک واٹر ،سی آئی اے ،موساد ،را
،خاد اور کے جی بی کے ہزاروں ایجنٹس آپریٹ کررہے ہیں اور یاد رکھیئے کہ
ڈپلومیٹک ویزے رکھنے والے امریکی جاسوس پاکستان میں سفارت کرنے کے لیے
نہیں آئے بلکہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں افواج پاکستان اور آئی ایس آئی ان
تمام سازشوں کامقابلہ کررہے ہیں اور ''میمو گیٹ سکینڈل ''کا ظہور اسی
آرمی اور آئی ایس آئی کو پابند کرنا تھا کہ یہ لوگ انکل سام کے منصوبوں
کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں لیکن گیم الٹی پڑگئی اور حسین حقانی
سفارت سے فراغت پاچکے ہیں ،کھپے والی سرکار درد دل کے ساتھ دبئی پہنچ چکے
ہیں اور ابھی مزید کچھ لوگوں کو کچھ عارضے لاحق ہوں گے جیسے جیسے سپریم
کورٹ اس سکینڈل کی تحقیقات کرتی جائے گی یہاں پر ہم افواج پاکستان کے
سپریم کمانڈر جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل
شجاع پاشا کو پوری قوم کی طرف سے ''سلام محبت و عقیدت ''پیش کرتے ہیں ۔
آخر میں حسب روایت لطیفہ پیش خدمت ہے
استاد نے اپنی کلاس کے سب سے نالائق اور سب سے شرارتی بچے سے تنگ آکر پوچھا
''مجھے اتنا بتائو کہ تم میری کلاس کے سب سے نکمے بچے کیوں ہو ''
بچے نے معصومیت سے کہا
''سر شاید اس لیے کہ جو بچہ مجھ سے بھی زیادہ نکماتھا وہ سکول چھوڑ کرجاچکاہے ''
اس لطیفے میں انکل سام اور طبلے والی سرکار کی مسلم لیگ کے لیے سبق موجود ہے ۔۔۔
افواج پاکستان اور انکل سام ۔۔
--
Rizwan Ahmed Sagar
Bhalwal(Sargodha)
03458650886/03006002886
Email.sagarsadidi@gmail.com
http://sargodhatv.blogspot.com/
http://bhalwalnews.blogspot.com
http://urduartical.blogspot.com <http://urducolumn.blogspot.com/>
Fall of Dacca BY Col. Riaz Jafri (Retd)
few remaining who were witness to the debacle. I had the misfortune to
be one. On this day the Quaid's Pakistan, which was considered an
epitome of 'Divided we Stand', was actually divided by breaking loose
all bonds of unity between the two wings. That day the largest Muslim
army suffered the ignominious humiliation of the greatest defeat.
This was the darkest day of our national history that stunned
everyone. How did it happen? Equipped with the hindsight knowledge, I
will try to reconstruct some of the sad saga.
In early July 1971 I was posted to East Pakistan as the Principal
Staff Officer (GSO-1) to late Major General Rao Farman Ali Khan – in
charge Martial Law (Civil Affairs). In my such capacity I was more or
less responsible for the Civil Administration of the Province and had
the opportunity of seeing the events unfolding themselves from the
vantage viewpoint of the Governor House, Dacca – the then epicentre of
the entire activity in East Pakistan. I had also access to the events
of the past buried in the files which kept popping up randomly during
my daily official work there. This all presented me with a fairly
clear picture of all that was happening there and why.
If I am asked who to blame for the debacle I would say that we were
all – from the common man in the street to the highest person in the
office, equally responsible for it. The common man for committing the
sin of keeping himself ignorant of the under currents simmering there
ever since that fateful 19th day of March 1948 when Quaid raising his
admonishing finger to the Bengali students at the Dacca University
convocation had warned them that Urdu will be the only official state
language of Pakistan, and not trying to assess the anguish caused to
the Bengalis and take measures to bring any rapprochement. The highest
in authority were guilty of being too greedy, power hungry and
selfish. Unfortunately we all treated East Pakistan as a colony and
never granted them their justly deserved status of being the major
human organ of Pakistan's body – 54 percent of the population. As
power barons of the Federal government mostly hailed from West
Pakistan they never shared the power willingly or happily with their
Bengali brethren. Imagine, the Bengalis though in majority going
jubilant in 1956 when Suhrawardy got them 'parity' (equal treatment)
with the West Pakistanis! Ever heard of a majority people thanking
obligingly the minority people for treating them equal?! We did it
again in 1971. The minority pronouncing the majority unpatriotic,
traitor and secessionist! Minority forcing the majority to leave the
country whose foundations they had laid in 1906! Not only, that the
Bengalis were treated as unequals, but it is also a fact that they
were the major revenue earner for Pakistan, mainly through the export
of their Golden Fibre to Manchester and Dundee jute mills in the UK.
They bore the major financial burden of Pakistan and happily too for
more than 15 years and until 1962 the cash flow was from East Pakistan
to West Pakistan. Thereafter, after an equilibrium of about two years
the process revers ed but not that heavily. Bengalis had, therefore,
every reason to be chary of and chagrin with the sala Punzabis. (every
West Pakistani was a Punjabi to them). Though the Bengalis proved
themselves to be equally, if not more, patriotic than the West
Pakistanis during the 65 war with India, yet the state of mutual
confidence between the two left more to be desired. By 1971 the
relations deteriorated further and irreversibly. The last straw that
broke the proverbial camel's back was Bhutto's rejection of 1970
election results which had given Shaikh Mujib ur Rehman's Awami League
a clear cut majority to form the government at the centre. ZAB's one
after the other statements like "we will break the legs of anyone
going to Dacca to attend the NA session there", "Udhar tum idhar hum"
and "I would rather be a top dog of half of Pakistan than be an
underdog of full Pakistan" left little doubt in the minds of Mujib and
company who opted for the Civil Disobedience in the province. Their
provincial autonomy stance kept becoming harder by the day and all
negotiations between them and the West Pakistani leaders and the
Federal government led by Gen.Yahya himself failed. The civil
disobedience had transformed itself into an outright mutiny and to
quell it the army struck on the night of 25th March 1971, starting an
internecine guerrilla war between the military and Mukti Bahini
lasting for 8 long months. On 21st November 1971 – Eid Day – the
Indians launched a fully fledged armed attack on East Pakistan which
lasted for 26 days of intense fighting by the Pakistan army under
extremely adverse conditions of (1) being badly out-numbered in men
and material – 3 Indian Corps' against one and that too lame,
under-strength and ill equipped, no tanks, very little artillery –
only the infantry and a battalion of Engineers, (2) hostility of the
local populace – no army can fight without the support of the
civilians, but here what to talk of the support the civil populace was
totally hostile, supporting the Indians by providing them with the
crucial intelligence needed by them, (3) poor communications and
logistics – no reinforcements or arms and equipment could be supplied
from West Pakistan. India had stopped the over flights since February
70 after the clever and clandestine planting of Ganga episode, (4)
lack of air cover - the only squadron of the F-86s that we had could
not operate as the runway of the only military airport Kurmi Tola had
been rendered out of operation by the Indians bombing it incessantly.
If anything, under such impossible conditions, it goes to the credit
of the army that it could fight for over nine months in East Pakistan.
In the second half of the year 1971 those in power - both civil and
military – seemed to be suffering from a stupor and behaving like
silent spectators waiting helplessly for the catastrophe to fall. I
distinctly remember Major General A Rahim Khan – later Secretary
General Defence, while addressing a batch of newly posted two dozen Lt
Cols and Majors to East Pakistan saying on or around 11 July 1971
"Gentlemen, the entire administration of the province had collapsed. I
have made it stand but only on its knees. Now it will be for you to
make it stand and stand it erect." Having said that the General went
on to add, "I have given my word to the Chief (Gen. Yahya) to give me
three months for the task, and if I cannot do it, he can -- (I
murmured under my lip, hang me!) he can - replace me". I was shocked
that the general had equated the stakes simply to his being replaced!
There would be nothing in three months to replace him for !! On
another occasion Lieutenant General Amir Abdullah Khan Niazi – alias
Tiger Niazi – the GOC Eastern Command as late as in October 71, before
the start of a special briefing to the visiting high powered army team
from the GHQ on the latest military situation in East Pakistan,
advised his senior staff officers not to depress the visiting generals
from the GHQ by giving them the dismal military picture of East
Pakistan or ask them for more troops. He quipped, "gentlemen, if they
send us more troops - more the merrier, but if they don't - lesser the
better". With the result that the operational military map on the
board showed more of 'Green' pins all over the area than the 'Red'
pins depicting the area under Mukti Bahini control. Whereas the map
should have been clustered with the Red pins. The GHQ team returned
satisfied about all being hunky-dory in East Pakistan. Similar 'Sab
Achha' reports kept ema nating from various sectors and parts of East
Pakistan to West Pakistan, till the water passed over the head. But by
then it was too late for any political solution that the likes of
Gen. Farman were advocating from the beginning but being too junior in
the army hierarchy were not given due importance. To a few others it
was a case of misplaced egoistic valour – not to be dubbed as having
been 'chickened out' in the army parlance. The true information was
not only denied to the common man in West Pakistan but even to those
at the helm also.
Handling of the East Pakistan issue at the International level, too,
was a fiasco on our part. Not that we did not mobilise any world
opinion in our favour, we on the contrary rather alienated them
mostly. On the other hand Indira undertook a whirlwind tour of 19
countries in October 1971 propagating the imaginary atrocities against
the Bengalis and particularly the Hindus of East Pakistan and yet
assuring each one of them that India had no intentions of aggression.
Ironically, while she was convincing and canvassing the world powers,
her army's Eastern Command was giving the final touches to the Attack
Plan in Fort William at the eastern bank of river Hoogli, Calcutta.
Whereas in our case despite Nixon's more or less ordering Kissinger
to 'do some thing' their 7th Fleet just passed by the Bay of Bengal
without even radioing the customary courtesy good will message or
tooting its horns thrice the Navy style. I am personally witn ess to
the Chinese repeated enquiries as to what could they do for us, after
we had established am emergency radio link with them? But all that we
could get from the stupor struck President's Secretariat at Rawalpindi
was, "Just wait, please". Hopes from the sincere Chinese friends were
so high that when the Indian para troopers chuted down over Narain
Ganj every one waived them jubilantly taking them to be Chinese coming
to our aid! Our Eastern Command had a morbid fear of the Indians
capturing a piece of land and passing it on to the Muktis to plant a
flag there and declare it to be the Bangla Desh. The Indians would
recognise it instantly thus giving birth to Bangla Desh. Consequently
the troops were spread in a thin line all along the border that
weakened the defence all over. There was no depth, no reserves, no
second lines. There was enemy (Indians) in the front and enemy at the
back (Muktis).They never realised that it was not the l oss of any
territory but the fall of the capital of a country that mattered. It
had to be the Warsaw, the Paris, the Moscow, the Berlin and in our
case Dacca that until captured the country would not fall. If they had
only concentrated all the troops in Dacca, made a fortress out of it
and held it for months, which they could do, the East Pakistan story
would have been different today. Agreed, the Bangla Desh would have
still come into being but instead of taking birth in battle field it
would have come into being on a negotiating table. Negotiations by the
world powers and probably the UNO itself and Pakistan would not have
had to suffer the ignominy of the defeat.
End:
Col. Riaz Jafri (Retd)
30, Werstridge-1
Rawalpindi46000
Tel: (051) 5158 033
Artical Junaid Ansari
ماجد رنگ ریز تھے ان کی یہ خواہش تھی کہ آپ بھی یہ ہی کام سیکھ لیں تاکہ
ان کا ہاتھ بٹاسکیں حضرت شیخ ابوالحسن ؒ کو اس کام سے کوئی رغبت نہ تھی
بلکہ آپ ہر وقت صوفیاء کرام کی مجالس میں شریک رہتے اور فارغ وقت میں بھی
اللہ کی عبادت کرتے رہتے آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبہ عطافرمایا
آپ کا مزار مصر میں ہے ۔
ایک مرتبہ آ پ کے والد صاحب نے آپ سے کہا مجھے ایک بہت ضروری کام ہے
تھوڑی دیر بعد واپس آجائوں گا مگر کچھ کام بہت جلدی کاہے یہ کپڑوں کا
ڈھیر پڑاہے ان کو رنگ دینا ۔
]آپ اپنے والد صاحب کے جانے کے بعد نماز نفل اداکرنے میں مصروف ہوگئے جب
آپ کے والد صاحب واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کپڑے اسی طرح پڑے ہیں یہ
دیکھ کر انہیں بہت غصہ آیا اور وہ آپ پر سخت ناراض ہوئے آپ نے والد صاحب
کے ناراضگی دیکھی تو تمام کپڑے اُٹھاکر ایک رنگ والے گڑھے میں ڈال دیئے
یہ دیکھ کر آپ کے والد صاحب کا غصہ اور بھی بڑھ گیا کیونکہ دوکان میںہر
رنگ کا علیحدہ گڑھا بنا ہوا تھا اور آپ نے تمام کپڑے ایک رنگ والے گڑھے
میں ڈال دیے تھے وہ غصے سے بولے تم نے سب کپڑوں کو ضائع کر دیاہے ہر کپڑے
کو الگ الگ رنگ میں رنگنا تھا اب میں لوگوں کو کیا جوا ب دوں گا ۔
حضر ت ابوالحسن ؒ نے یہ سن کر اپنا ہاتھ گڑھے میں ڈال کر سب کپڑے باہر
نکال دیے آپ کے والد صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہر کپڑا اسی رنگ
میں رنگا ہوا تھا جس کی خواہش کپڑے کے مالک نے کی تھی آپ کی یہ کرامت
دیکھ کر آپ کے والد محترم نے آپ کو اپنے حال پر چھوڑدیا اور راہ ِ تصوف
کے لیے آزادکردیا۔
قارئین 16دسمبر 1971ء وہ منحوس دن ہے کہ جس دن اپنوں اور بیگانوں کی
سازشوں کے تحت پاکستان دولخت کیاگیا خطہ زمین پر دنیا کی سب سے بڑی اور
واحد نظریاتی اسلامی مملکت کو دوٹکڑے کرنے میں جہاں ہمارے ازلی دشمن
بھارت نے کھل کر اپنا کام کیا وہاں کئی دوستی کے دعویداروں نے زبان سے تو
دوستی کے نغمے گائے لیکن حقیقت میں پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ان
دوست نما دشمنوں میں سرفہرست انکل سام تھے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی
،بھارتی ایجنٹوں کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کی فورسز بھی ملوث تھیں افواج
پاکستان اس وقت چومکھی جنگ لڑرہی تھیں کئی دنوں بلکہ کئی ہفتوں تک بین
الاقوامی اور قومی میڈیا پر یہ خبریں چلتی رہیں کہ مشرقی پاکستان گھری
پاکستانی فوجوں کی مدد کے لیے انکل سام کا ''ساتواں بحری بیڑا ''روانہ
ہوچکاہے اور پہنچنے ہی والاہے شب وروز گزرتے گئے اور 16دسمبر کا وہ منحوس
دن آپہنچاکہ جب جنرل نیازی نے 90ہزار سے زائد پاکستانی فوجیوں سمیت
ہتھیار ڈال دیئے یہاں پر ہم ایک تاریخی حقیقت رقم کرتے چلیں کہ ہتھیار
ڈالنے والے فوجیوںکی تعداد کا ذکر تو ہر مورخ نے کیا لیکن ان گمنام
ہوجانے والے پاکستانی فوجی مجاہدوں کا ذکر کرنا ہم بھول گئے کہ جنہوںنے
ہتھیا رڈالنے کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور عزت اور غیرت والی شہادت
کو بے عزتی اور بے غیرتی والی زندگی پر ترجیح دی اور ٹیپو سلطان شہید ؒ
کے اس قول پر عمل کیا کہ ''شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی
سے بہتر ہے ''
یہ فوجی مجاہد گمنام ہوکربھی امر ہوگئے اور انہوںنے اس وطن کی خاطر اپنی
جان قربان کردی ۔
قارئین اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے حمود الرحمن کمیشن قائم کیاگیا
اس کمیشن نے اس حادثے کی مکمل تحقیقات کرنا تھیں اور طے کرنا تھا کہ
ڈھاکہ فال کا ذمہ دار کون ہے آج 30برس گزر چکے ہیں لیکن مجرموں کو عوام
کے سامنے بے نقاب نہیں کیاگیا ڈھاکہ فال کے حادثے پر صرف پاکستانی نہیں
بلکہ پورا عالم اسلام رویا اس حادثے کے بعد پاکستان میں ذوالفقارعلی بھٹو
شہید کو اقتدار ملا او روہ اس حالت میں کہ پاکستان دولخت ہوچکاتھا ،0ہزار
سے زائد پاکستانی فوجی بھارت کی قید میں تھے ،پورا پاکستان نفسیاتی شکست
خوردگی کا شکار تھا اور کوئی بھی اس بات کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہ
تھا کہ یہ بچا کھچا پاکستان کتنے دن تک اپنے وجود کو برقرار رکھ پائے گا
ذوالفقارعلی بھٹو نے اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ بصیرت او رذہانت کو استعمال
کرتے ہوئے بھارت سے اپنے فوجی بھی رہا کروائے ،974ء میں بھارت کی طرف سے
شروع کیے جانے والے ایٹمی پروگرام کے جواب میں فخر ملت اسلامیہ ڈاکٹر
عبدالقدیر خان کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ڈویلپ کرنے کے لیے زمہ
داریاں دیں ،اسلامی سربراہی کانفرنس کروائی ،ملک کو پہلا آئین دیا
،قادیانیوں جیسے انتہائی خطرناک لوگوں کو غیر مسلم قرار دیا اور ایسے ان
گنت کارنامے انجام دیے کہ دوست دشمن سب ان کی تحسین کرنے پر مجبور ہوگئے
۔
قارئین یہ ذوالفقارعلی بھٹو ہی تھے کہ جنہوںنے سلامتی کونسل میں گزشتہ
حکومت کے دوران ولولہ انگیز تقریر کرتے ہوئے کاغذات پھاڑ کر ہوا میں
پھینک دیے اور تاریخی جملہ اداکیا کہ ''ہم کشمیر کی آزادی کے لیے ہزار
سال جنگ لڑیں گے ''یہ تو وہ پس منظر ہے کہ جوہم نے آج کے موضوع کے حوالے
سے آپ کے سامنے بیان کیا ذوالفقارعلی بھٹو کو جنرل ضیاء الحق نے پھانسی
پر لٹکا دیا اور دس سالہ فوجی دور کے بعد بینظیر بھٹو کو اقتدار ملا
بینظیر بھٹو کے اس دور حکومت میں بھارتی پنجاب میں سکھوں کی تحریک آزادی
کو کچل کررکھ دیا گیا اور سیاسی مخالفین کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی اس
وقت کی حکومت نے بھارت کو ان سکھوں کی فہرستیں فراہم کیں جو بھارت کے لیے
درد سر بنے ہوئے تھے خیر ہم الزامات اور انکے جوابات کی تفصیل میں نہیں
جاتے بینظیر بھٹو کے بعد میاں محمد نواز شریف کو اقتدار ملا اور اس کے
بعد ایک ایک بار ان دونوں کو دوبارہ حکومت ملی ۔000ء تک ''تحریک آزادی
کشمیر ''اسی زور اور شدومد کے ساتھ جاری رہی جس کا اعلان ذوالفقارعلی
بھٹو نے اقوام عالم کے سامنے شیر کی طرح دھاڑ کرکیا تھا کہ
ؔ''ہم کشمیر کی آزادی کے لیے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے ''
''بلی مارکہ کمانڈوطبلے والی سرکار ''جناب جنرل مشرف نے پہلے تو 9/11کے
بعد امریکی دھمکیوں ،لالچ اور دیگر کئی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے
پاکستان کی افغان پالیسی رول بیک کی اور اس کے بعد ایسا بیک گئیر لگایا
کہ تمام قومی معاملات پر ''سب سے پہلے پاکستان ''کا جھوٹا اور دھوکا دینے
والا ٹھپہ لگاکر ہر قومی ایشوکو ابہام میں ڈال دیا اور حتی کہ فلک نے وہ
دن بھی دکھایا کہ یوں لگا کہ جیسے ''ڈھاکہ فال ''کے بعد ''کشمیر فال
''بھی ہوچکاہے جنرل مشرف نے وہ کام کیے کہ پوری دنیا میں آباد کشمیری تڑپ
اٹھے اور حتیٰ کہ برطانوی ہائو س آف لارڈز کے پہلے تاحیات مسلمان رکن
لارڈ نذیر احمد بھی یہاں تک کہنے پر مجبور ہوگئے کہ جنرل مشرف نے کشمیر
پالیسی کو وہ نقصانات پہنچائے ہیں کہ ان کا ازالہ ناممکن ہے ۔
قارئین آج ڈکٹیٹر مشرف کو ملک سے گئے تین سال سے زائد عرصہ گزر چکاہے
''جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے ''کا دل کش نعرہ لگانے والے اقتدار کے
ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں پاکستان پیپلزپارٹی کے ان لوگوں کو اقتدار
ذوالفقارعلی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے خون کے صدقے ملاہے کشمیر کے نام پر
بننے والی پاکستان پیپلزپارٹی کشمیر کو بھول چکی ہے اور آج ایک لاکھ سے
زائد کشمیریوں کے قاتل بھارت کو ''موسٹ فیورٹ نیشن ''کا اعزاز دیاجاچکاہے
کشمیری آج سمجھ رہے ہیں کہ ان کا بڑا بھائی ان سے دست کش ہوچکاہے بقول
غالب
دیاہے دل اگر اس کو بشر ہے کیاکہیے
ہوا رقیب توہو ،نامہ بر ہے کیاکہیے
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھاہے ہم کو فریب
کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیاکہیے
تمہیں نہیں ہے سر ِ رشتہ ء وفا کا خیال
ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ،ہے کیا؟کہیے
کہاہے کس نے کہ غالب ؔبرانہیں لیکن
سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیاکہیے
قارئین کشمیری پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت رکھتے ہیں لیکن یہ بھی
کوئی بات نہیں کہ سیاسی اختلافات اور دشمنیاں اس حدتک بڑھ جائیں کہ تحریک
آزادی کشمیر کے لیے سب سے بلند آواز رکھنے والے لارڈ نذیر احمد کو تو
آزادکشمیر کی مجاوروں کی حکومت ''ناپسندیدہ شخصیت ''قرار دے دے اور ایک
لاکھ سے زائد کشمیریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے بھارت کو ''موسٹ فیورٹ
نیشن ''قراردے دیاجائے بقول شاعر
آپ خود اپنی ادائوں پہ زرا غور کریں
ہم جو کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
ڈھاکہ فال کے بعد کشمیر فال کی طرف کے سفر کو روکا جائے یہی ہماری
درخواست اور دکھے دل کی التجا ہے ۔
آخر میں حسب روایت لطیفہ پیش خدمت ہے
ایک کرایہ دار گھر دیکھنے کے لیے آیا تو ہمسایے میں رہنے والے صاحب اسے
کہنے لگے ''یہ گھر بالکل نہ لیجئے گا یہاں صرف گدھے رہ سکتے ہیں ''کرایہ
دار نے حیران ہوکر پوچھا آپ کو کیسے پتہ چلا ؟
وہ صاحب اطمینان سے کہنے لگے
''جناب میں خود اس گھر میں تین ماہ رہ چکاہوں ''
قارئین یوں لگتاہے کہ موجودہ حکومت اپنے ذہن سے بلکہ اپنے پیش رو جنرل
مشرف کے ذہن سے سوچتی ہے ورنہ ذوالفقارعلی بھٹو کے اصلی وارث کبھی بھی
کشمیر سے دست بردار نہیں ہوسکتے ۔۔
کشمیر فال ۔۔۔ڈھاکہ فال
--
Rizwan Ahmed Sagar
Bhalwal(Sargodha)
03458650886/03006002886
Email.sagarsadidi@gmail.com
http://sargodhatv.blogspot.com/
http://bhalwalnews.blogspot.com
http://urduartical.blogspot.com <http://urducolumn.blogspot.com/>
Qaisar Muzaffar Qureshi
Taif
Tel: +966 (2) 7252203/7252174/7252052
Fax: +966 (2) 7251020
Mob: +966 501943662
Email: qqureshi.c@stc.com.sa
Waseela-e-Taleem � A Revolutionary Step
-- --
Salman Khalid
Assistant Director - Media
Benazir Income Support Programme


